علیمہ خان 30 روز کیلئے نظر بند، کوٹ لکھپت جیل منتقل
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو لاہور میں حراست میں لیے جانے کے بعد 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری حکم کے مطابق علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما محمد امیر کو امن و امان میں خلل کے خدشے کے پیش نظر نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
30 روزہ نظر بندی کے احکامات
دستیاب معلومات کے مطابق ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر دونوں افراد کے خلاف تھری ایم پی او کے تحت کارروائی کی گئی۔ حکم کے مطابق انہیں 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جانا ہے۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کو لاہور میں ان کے گھر سے نکلنے کے بعد پولیس نے حراست میں لیا۔ بعد ازاں انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

پی ٹی آئی کا احتجاج
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے علیمہ خان کی حراست پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے احتجاج اور مارچ کو پُرامن اور سیاسی رکھنے کا مؤقف واضح کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے علیمہ خان کو ایم پی او کے تحت نظر بند کرنے پر تنقید کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پارٹی اس معاملے پر اپنا آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔
27 ستمبر کے احتجاج سے قبل کارروائی
علیمہ خان کی حراست ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی سمیت اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔
مختلف دعوے سامنے آگئے
پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے علیمہ خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا، جبکہ پارٹی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں گرفتاری کو اغوا قرار دیا۔ دوسری جانب دستیاب رپورٹس میں لاہور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
ان دعوؤں اور الزامات پر متعلقہ حکام کا مکمل مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

Leave a Reply