کوئٹہ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما گلزادی بلوچ کو قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد تنظیم کی چیئرپرسن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے عدالتی کارروائی اور دفاع کے قانونی حقوق سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ گلزادی بلوچ کو کوئٹہ کی عدالت نے اکتوبر 2022 میں مچھ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی۔
ماہ رنگ بلوچ کا ردعمل

ہدہ جیل سے جاری اپنے بیان میں ماہ رنگ بلوچ نے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سزا کو بلوچستان میں پُرامن سیاسی آوازوں کے خلاف کارروائی کے تسلسل کے طور پر دیکھتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقدمے کے دوران ایک گواہ پر دفاعی وکیل کی عدم موجودگی میں جرح ہوئی، جبکہ دفاع کو اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا گیا۔ ماہ رنگ بلوچ نے عدالتی عمل کی غیر جانب داری اور دباؤ سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
قانونی ٹیم کے اعتراضات
گلزادی بلوچ کے وکلا نے بھی عدالتی کارروائی پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ وکیل کے مطابق سزا سنائے جانے سے قبل ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت گلزادی بلوچ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا اور دفاع کو حتمی دلائل پیش کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ قانونی ٹیم نے فیصلے کو متعلقہ فورم پر چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
مذاکرات اور سیاسی جدوجہد
ماہ رنگ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایک جانب کارکن جیلوں میں ہوں اور دوسری طرف ان کے قانونی حقوق محدود ہونے کی شکایات سامنے آئیں تو مذاکرات کا عمل مشکلات کا شکار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے سیاسی مطالبات کے لیے مذاکرات اور مکالمے کے حق میں رہی ہے، تاہم تنظیم سیاسی دباؤ یا اپنی جدوجہد سے دستبرداری کو قبول نہیں کرے گی۔

Leave a Reply