\n

Quetta: Two Women Linked to Banned Group Reveal Details

September 19, 2026 • ak.alikakar@gmail.com • 👁 71 views

معلوماتی بیانیہ

اس موقع پر دو خواتین نے پریس کانفرنس کی. علاوہ ازاں میڈیا نے کالعدم تنظیم سے منسلک دو خواتین کی پریس کانفرنس میں ماضی اور شمولیت پر روشنی والی. خدیجہ پیر جان تربت تمپ کی ہیں اور کوئٹہ بی ایم سی کالج میں نرسنگ پڑھاتی تھیں. ان کے شوہر حاصل حرف دودا کا تعلق ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تھا.

خدیجہ پیر جان نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر نے پہلے ان کے بھائی کو تنظیم میں شامل کیا. ان کے مطابق انہیں کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا. یہ بات کالعدم تنظیم سے منسلک دو خواتین کی پریس کانفرنس میں سامنے آئی.

خدیجہ پیر جان نے کہا کہ ری ایب کے دوران انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں.

انہوں نے بھائیوں اور دیگر نوجوانوں سے اپیل کی کہ پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں، اور کسی کے بہکے میں نہ آئیں.

بیسمہ سے تعلق رکھنے والی صفیہ عبدالخالق نے بتایا کہ ان کے کزن اسرار کا تعلق بی ایل اے سے تھا، جس کے ذریعے وہ بھی تنظیم میں شامل ہوئی.

صفیہ عبدالخالق کے مطابق کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر نے انہیں نیا موبائل فون دیا، اور مبینہ طور پر خودکش حملے کیلئے گاڑی چلانے کی تربیت دی گئی.

بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا.

صفیہ عبدالخالق نے الزام عائد کیا کہ کالعدم تنظیم کے عناصر بچیوں اور نوجوان لڑکیوں کو ورغلاتے ہیں.

صفیہ عبدالخالق نے دیگر لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کے بہکے میں نہ آئیں اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں.

کالعدم تنظیم سے منسلک دو خواتین کی پریس کانفرنس میں صورتحال کی وضاحت کا تقاضا کیا جاتا ہے.

تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *