\n

کوئٹہ میں متاثرہ ٹھیکیداروں کی پریس کانفرنس، نیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن پر کروڑوں کے فراڈ کا الزام

September 26, 2026 • ak.alikakar@gmail.com • 👁 8 views
Facebook video thumbnail▶f

Facebook VideoShare link کو Facebook embed نہیں کر سکتا۔ اصل Reel/Video link استعمال کریں۔

Facebook پر ویڈیو کھولیں

کوئٹہ (پریس کانفرنس)  متاثرہ ٹھیکیداروں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف جسٹس بلوچستان، آئی جی پولیس، ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایک مبینہ مالی فراڈ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین نے الزام عائد کیا کہ نیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام اور پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے متعدد ٹھیکیداروں کے ساتھ کروڑوں روپے کا مبینہ مالی فراڈ کیا گیا۔

متاثرین کے مطابق ان کے پاس اپنے دعوؤں کے حوالے سے مختلف دستاویزات، ورک آرڈرز، ریکارڈ، تصاویر اور آڈیوز موجود ہیں جو وہ متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وہ آئی جی پولیس آفس، ایس پی انویسٹی گیشن، ڈپٹی کمشنر آفس، محکمہ داخلہ اور ایف آئی اے کو درخواستیں بھی دے چکے ہیں۔

متاثرین کا موقف:

متاثرین کے مطابق، ان کی معلومات اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق بعض افراد نے نیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام پر سیلاب زدہ علاقوں بالخصوص نصیر آباد، جھل مگسی، سبی اور جعفرآباد کے متاثرین کے لیے سامان کی فراہمی کے نام پر ٹھیکیداروں سے رابطے کیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سولر پینلز، گھروں کی چھتوں کے لیے سریا، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے لیے ان کی کمپنیوں کے نام پر ٹینڈر کروائے گئے اور ورک آرڈرز جاری کیے گئے، اور سامان وصول کرنے کے بعد مبینہ طور پر مارکیٹ میں فروخت کر دیا گیا۔

مبینہ طور پر ملوث افراد کے حوالے سے مطالبہ:

متاثرین نے اپنی شکایت میں جن افراد کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، ان میں ایک سیاسی جماعت کی خاتون عہدیدار (صدر ویمن ونگ قلات ڈویژن) اور دیگر ساتھیوں کے نام شامل ہیں۔ متاثرین کے مطابق ان افراد کو مذکورہ NGO میں پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر، نائب صدر، سیکریٹری سمیت مختلف عہدے دیے گئے تھے۔

متاثرین کے مطالبات:

1. نیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام پر جاری تمام ورک آرڈرز اور معاہدوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
2. ٹھیکیداروں سے لیے گئے سامان، اس کی ترسیل اور رقم کی منتقلی کا ریکارڈ چیک کیا جائے۔
3. متعلقہ افراد کے بینک اکاؤنٹس اور مالی معاملات کی قانونی تحقیقات کی جائیں۔
4. اگر کسی سرکاری عہدے یا سیاسی جماعت کا نام غلط استعمال ہوا ہے تو اس کی بھی تحقیقات ہو۔
5. متاثرین کو انصاف اور رقم کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

متاثرین نے کہا کہ اس مبینہ فراڈ کے باعث کئی ٹھیکیدار شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، جنہوں نے سامان کی خریداری کے لیے قرض لیا تھا اور اب قرض دہندگان کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی کہ اس معاملے کا فوری، شفاف اور میرٹ پر نوٹس لیا جائے اور مبینہ ملوث افراد کو بیرون ملک فرار سے روکنے کے لیے ان کے نام ECL میں ڈالے جائیں۔

وضاحت: خبر میں شامل تمام الزامات متاثرہ ٹھیکیداروں کی پریس کانفرنس کے مطابق ہیں، جن کی حتمی سچائی کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کی تحقیقات سے ہونا ہے۔

تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *