مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد عرفان خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے مضبوط جمہوری ادارے، شفاف سیاسی عمل اور حقیقی عوامی نمائندگی ناگزیر ہے۔ صوبے کو درپیش سیاسی، انتظامی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔
سیاسی اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت
محمد عرفان خلجی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی میں روایتی سیاسی ڈھانچوں، اختیار کے ارتکاز، سیاسی اجارہ داری اور میرٹ کی کمی جیسے مسائل رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی طبقے یا نظام سے وابستہ ہر فرد کو محض اس نسبت سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں آنے والے نئے یا غیر روایتی سیاسی افراد کی اہلیت اور کارکردگی کو معیار بنایا جانا چاہیے۔ عوامی نمائندگی کا اصل مقصد شہریوں کے مسائل کو قانون سازی اور پالیسی سازی کے ذریعے حل کرنا ہے۔
شفاف انتخابات اور میرٹ کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بغیر کسی دباؤ کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔ سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت کے خاتمے اور بھرتیوں و ترقیوں میں مکمل میرٹ کے نفاذ کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں۔
بااختیار بلدیاتی نظام اور منصفانہ وسائل
محمد عرفان خلجی نے بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کے لیے بھی مؤثر پالیسی اپنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، خواتین، کاروباری افراد، محنت کشوں اور عام شہریوں کی سیاسی عمل میں شرکت بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان کا مستقبل کسی ایک خاندان یا طبقے نہیں بلکہ پورے عوام سے وابستہ ہے

Leave a Reply