ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سپریم کورٹ سے ریلیف، سزائیں معطل
سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ریلیف دیتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل کردی ہیں۔ عدالت نے 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض دونوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان کے ریمارکس
سماعت کی سربراہی کرنے والے جسٹس نعیم اختر افغان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی دونوں کو عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
سوشل میڈیا پوسٹس کیس کی تفصیلات
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 23 جنوری 2026 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق دونوں پر سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو فروغ دینے اور پاک فوج پر سنگین الزامات عائد کرنے کے الزامات تھے۔ مقدمے میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کے حوالے سے سکیورٹی فورسز کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
مقدمہ پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
سزا کے خلاف قانونی کارروائی
ٹرائل کورٹ کی جانب سے دونوں کو 17،17 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔ تاہم 19 فروری 2026 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کرنے سے انکار کردیا، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔
21 اگست کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے معاملہ 17 ستمبر تک ملتوی کیا تھا۔
درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کو پہلے ہی سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر چکی ہے۔
حکومت نے کیا مؤقف اختیار کیا؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیسز مقرر کرنے کا باقاعدہ نظام موجود ہے اور اسی کے تحت مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔ حکومت کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا تھا۔
تازہ سماعت میں سپریم کورٹ نے دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کرلی اور رہائی کا حکم دے دیا

Leave a Reply