تفصیلی خبر
اسلام آباد: پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے قبل حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کرچکے ہیں، تاہم حکومت کو تاحال مثبت جواب نہیں ملا۔
مذاکرات کے لیے کیا شرط ہے؟
رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی لانگ مارچ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کرے تو وزیراعظم سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ تازہ حکومتی مؤقف کے مطابق لانگ مارچ کے التوا کے بغیر رسمی مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا آئینی حق ہے، لیکن یہ حق قانون کے دائرے میں استعمال ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت اسلام آباد پر کسی حملے یا شہر میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
26 نومبر جیسے حالات دوبارہ نہ ہونے دینے کا بیان
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت ماضی کے 26 نومبر جیسے حالات کو دوبارہ پیدا نہیں ہونے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے پہلے احتیاطی انتظامات ضروری ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 21 ستمبر کو کہا تھا کہ پارٹی نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور اسے اپنا آئینی و جمہوری حق قرار دیا تھا۔
اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات
رانا ثناء اللہ کے مطابق اسلام آباد میں رکھے گئے کنٹینرز سڑکیں مستقل بند کرنے کے لیے نہیں بلکہ حفاظتی اقدامات کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں مختلف ممالک کے سفارت کار موجود ہیں، اس لیے امن و امان کی صورتحال اہمیت رکھتی ہے۔
دریں اثنا اسلام آباد میں لانگ مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے ہیں اور اضافی نفری و اینٹی رائٹ سامان طلب کیا گیا ہے۔
حکومت کا مؤقف
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث کسی دباؤ میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’’ونس فار آل‘‘ کا مقصد کسی سیاسی جماعت کا خاتمہ نہیں بلکہ ایسے حالات سے بچاؤ ہے جن سے ملک کا معمول متاثر ہو۔

Leave a Reply