پاکستان سے مذاکرات چاہتے ہیں، افغان طالبان کا مؤقف سامنے آگیا
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان سے مذاکرات چاہتے ہیں، اور تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔
کابل، مزید برآں، دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کیا۔
سعودی عرب سے ثالثی کی امید
افغان طالبان کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود اختلافات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کابل نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی رابطوں کو آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
افغانستان میں کارروائی پر ردعمل
ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ اگر پاکستان افغانستان کے اندر حملہ کرتا ہے تو افغان حکومت اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے اقدامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ٹی ٹی پی کے بارے میں افغان دعویٰ
مزید برآں افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کی اجازت نہیں دیتے اور الزام مسترد کرتے ہیں.
افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ سکیورٹی مسائل بہتر ہوں.
پاکستان کا مؤقف کیا ہے
پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی سمیت پاکستان کو مطلوب مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی صورتحال سرحدی مسائل اور باہمی اعتماد کی کمی اہم معاملات میں شامل ہیں

Leave a Reply