پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سابق ممبر صوبائی اسمبلی نصر اللہ خان زیرے، پشتونخوا سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری وارث افغان اور پشتونخوا نیپ ڈاکٹرز یونٹ سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد پانیزئی نے کہا ہے کہ طلبہ پر پشتون قومی ذمہ داریاں دیگر طبقات کی نسبت زیادہ عائد ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوا سٹوڈنٹ آرگنائزیشن بولان میڈیکل یونیورسٹی کالج کے زیرِ اہتمام سالانہ فیئر ویل اور ویلکم پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے کہا کہ بالخصوص طب کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹرز اور زیرِ تعلیم میڈیکل طلبہ کو اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے ہر میدان میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاست ہماری قومی اور اجتماعی ذمہ داری ہے اور طلبہ کو اس ذمہ داری سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔تقریب سے یونٹ سیکرٹری ڈاکٹر سمیع اللہ خان، ڈاکٹر فہیم خان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری زرمینہ خپلواک اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض یونٹ کے معاون سیکرٹری سید ناصر نے انجام دیے۔تقریب میں ڈاکٹر امان خان، ڈاکٹر مزمل خان، حاجی فضل الرحمن الکوزئی، وحدت افغان، زوہیب خان کبزئی، حبیب شیرانی اور دیگر موجود تھے۔مقررین نے کہا کہ حکمران تعلیمی اداروں میں سیاست پر پابندی عائد کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ تعلیمی ادارے سیاسی اور فکری شعور کے مراکز ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ سیاست پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز مسائل کا شکار ہیں۔ بولان میڈیکل یونیورسٹی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔مقررین نے کہا کہ اس وقت پشتونخوا وطن اور بلوچستان مکمل طور پر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، حالیہ مہینوں میں جنوبی پشتونخوا میں المناک واقعات ہوئے۔ دہشت گردی کے پیچھے معدنی وسائل پر قبضے کی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے اور پشتونخوا سرزمین کو بدامنی سے پاک کیا جائےمزید خبریں
طلبہ پر قومی ذمہ داریاں زیادہ ہیں، میڈیکل طلبہ کردار ادا کریں – نصراللہ زیرے

Leave a Reply